کوچنگ کلچر، NEET، JEE، UPSC، CA اور CUET-UG — ایک ایسا نظام جہاں طالب علم کی صلاحیت سے زیادہ امتحانی مقابلہ، معاشی حیثیت اور تعلیمی پس منظر اُس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگے ہیں۔

بھارت میں صدیوں سے تعلیم کو معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے ۔ ہر عام و خاص آدمی آج اگر اپنے بچّوں کو پڑھا رہا ہے اور پڑھانا چاہتا ہے تو وہ صِرف اِس لیئے کہ اس کے بل پر اُس کا بچّہ اچّھی نوکری پا سکے اور اچّھا پیسہ کما سکے ۔
ایک بھی آدمی کی اپنے بچّوں کو پڑھانے کے پیچھے اُسے قابل، ہونہار، با صلاحیت، سمجھدار، صحیح غلط كو سمجھنے والا، صحیح غلط کا فیصلہ کرنے والا، اچّھا انسان بنانا مقصد نہیں ہے ۔ مقصد صرف اور صرف پیسہ ہے ۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ علم حاصل کر لینے کے بعد زیادہ تر بچّوں میں یہ خصوصیات آجاتی ہیں ۔ لیکن ذیادہ تر بچّے اب اپنے حاصل کیے گئے علم سے پیسہ کمانے اور روزگار پانے سے محروم رہ جا رہے ہیں ۔ ایسے بچّے جو تعلیم سے پیسہ کمانے کے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے اُنھیں والدین، پریوار اور سماج ناکام مانتا ہے ۔ حالانکہ وہ ایک با ادب، با صلاحیت، دانشمند اور اچّھے انسان بن چُکے ہوتے ہیں ۔
لیکن جب کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہی پیسہ قرار دیا جائے تو ادب، تہذیب، دانشمندی، اچّھا انسان وغیرہ خصوصیات بہت پیچھے چھوٹ جاتی ہیں ۔
بھارت میں یہ نظریہ ہی پوری طرح سے غلط ہے کہ علم حاصل کرنا ہے کیوں کہ اس سے اچّھی نوکری، اچّھی سروس، اچّھا روزگار اور اچّھا پیسہ حاصل ہوگا ۔ لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ پیسہ کمانے کے لئے علم حاصل کرنے کی سوچ پوری طرح سے غلط ہے ۔ سب سے بڑی بیماری جس کی وجہ سے آج بھارت میں لاکھوں بچے خود کشی کر رہے ہیں وہ یہی ہے ” پیسہ کمانے کے لئے علم حاصل کرنا ” ہے ۔
اسی لیئے بھارت میں علم حاصل کرنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ تعلیمی نظام ایک پیسہ کمانے کی فیکٹری بن چُکا ہے ۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے لئے تعلیم خرید رہے ہیں کیوں کہ اُنھیں اچّھا پیسہ کمانا ہے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اچّھی تعلیم بیچ کر پیسہ کما رہے ہیں ۔
اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کی فیسوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پھر مہنگی مہنگی کوچنگ کلاسس، مہنگے اسٹڈی مٹیریلز، مہنگی آنلائن تعلیمی سہولیات سے تعلیم کو غریب اور مڈل کلاس پریواروں کے لئے مشکل ترین بنا دیا گیا ہے ۔
اچّھا روزگار، اچّھا پیسہ کمانے کی غرض سے اچّھے کورسز، اچّھی فیلڈ اور مُلک کی نامی گرامی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ کے لئے لاکھوں پریوار اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ کلاسس، اُنکی مہنگی آنلائن سہولیات اور مہنگے مہنگے اسٹڈی مٹیریلز خریدنے پر مجبور ہیں ۔
کیوں کہ اُن کے دماغ میں یہ بیماری پیدا کر دی گئی ہے کہ اچّھی تعلیم، نامی گرامی فیلڈ، کورسس اور مشہور اور بڑے نام والی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلے سے اُنکا بچّہ اچّھا پیسہ کمانے کے قابل بن سکے گا ۔ ورنہ وہ بھی غریب کا غریب ہی رہ جائے گا، اور پورا پریوار غریب رہ جائے گا ۔
ایک ڈر پیدہ کیا گیا اور ایک اُمید بیچی گئی ۔ اس ڈر کی وجہ سے بھارت کے لاکھوں پریوار اپنے بچوں کو مہنگی تعلیم، مہنگے کورسس، مہنگی کوچنگ کلاسس اور اُنکے مہنگے پریمیم اسٹڈی مٹیریلز کی اُمید کو خرید رہے ہیں اور بھاری قرض میں ڈوب رہے ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق پچھلے دس سال میں طلباء کے خود کشی کرنے کے معاملات میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پچھلے دس سال میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد اور ہر سال دو ہزار سے زیادہ طلباء نے خود کشی کی ۔
آخر طلباء کی بڑھتی خود کشی کی وجہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی وجہ تو وہی بیماری ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ۔ "پیسہ کمانے کا مقصد”۔ جب اتنے جتن کے بعد مقابلہ جاتی امتحانات میں ناکامی حاصل ہوتی ہے تو طلباء کو اپنا پورا مستقبل ہی برباد ہو گیا نظر آتا ہے ۔ چونکہ والدین اُس کی پڑھائی کے لئے بھاری قرض لیئے ہوتے ہیں تو اُسکی بھرپائی کا بھار بھی وہ اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہے اور طرح طرح کے منفی خیالات اور اوور تھنکنگ اُسے خود کشی کرنے پر ابھارتی ہے ۔

دوسری بڑی وجہ جو پہلی وجہ "ناکامی” کا بھی سبب ہے ۔ وہ ہے، اسکول کے بعد آگے کی تعلیم میں داخلے کے لئے مقابلہ جاتی امتحانات کو لازمی قرار دینا ۔ پھر اُن مقابلہ جاتی امتحانات کو Centralize کر دینا ۔
اسکول کی تعلیم کے بعد آگے کی تعلیم میں داخلے کے لئے پہلا مقابلہ جاتی امتحان جسے Centralize کیا گیا ہے، وہ نیشنل ایلیجبٹی کم انٹرانس ٹیسٹ (NEET) ہے ۔ اِس کا جو نصاب ہے وہ سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) نے تشکیل دیا ہے ۔ جو کہ 90 فیصد آبادی کے لئے پوری طرح سے alien ہے ۔ کیوں کہ وہ مُختلف ریاستی بورڈ کے نصاب سے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جِس کی وجہ سے وہ اِس امتحان میں زیادہ نمبر حاصل نہیں کر پاتے اور جس فیلڈ، جِس یونیورسٹی اور کالج میں وہ ایڈمشن لینا چاہتے ہیں اُس میں ناکام رہتے ہیں ۔
یہاں ضرورت پڑتی ہے مہنگی کوچنگ کلاسس کی، اُنکے مہنگے پریمیم اسٹڈی مٹیریلز کی ۔ پھر ایک اور دو سال repeat کرنے بعد بھی ان میں سے صرف 5 فیصد طلباء ہی کامیاب ہو پاتے ہیں ۔
زیادہ تر طلباء غریب، لوور مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہر کسی کے لئے مہنگی کوچنگ کلاسس لگانا مُمکن نہیں ۔ پھر ایک اور دو سال اُسے attend کرنا، معاشی طور پر یہ اُنکے بس کی بات ہی نہیں ہوتی یہ اُنکی کمر توڑ دیتا ہے ۔
اور اگر کوئی آفت آجائے، جیسے کوئی سوالیہ پرچہ لیک ہوجائے، یا امتحان بغیر کسی معقول وجہ اور ضابطے کے منسوخ کر دیا جاۓ، یا طلباء جِس مشین پر امتحان دے رہے ہوتے ہیں وہ خراب ہوجائے یا صحیح کام نہ کرے تو تب بھی اپنے پریوار کو غریبی سے نکالنے کا بھار طلباء کے کندھوں پر چلا جاتا ہے ۔ اور پورے جتن کے باوجود وہ خود کو بے بس پاتا ہے اور خود کشی کی اور بڑھتا ہے ۔
یہ جو پورے ملک میں طلباء کا احتجاج ہوا کیا وہ صِرف کاکروچ جنتا پارٹی کے كہنے بھر سے ہوا ؟ بالکل نہیں! یہ غصّہ ہے طلباء کا اُس سسٹم کے خلاف جو اُنھیں آگے بڑھنے سے روک رہا ہے ۔ اُس سسٹم کے خلاف جو اُن کے پریوار کو غریبی سے نکلنے کے موقع کو چھین رہا ہے ۔ جو اُنکے والدین کو بھاری قرض میں ڈبو رہا ہے ۔
پیپر لیک یا NEET تو صِرف ایک مثال ہے ۔ ایسی سینکڑوں وجوہات ہیں جو سسٹم اور اُسکی خرابی کی وجہ سے وجود میں ہیں اور اُنکی مخالفت کی آگ طلباء کے سینوں میں جل رہی ہے اور یہ صرف انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ تک محدود نہیں ہے سسٹم میں اِتنی خرابی موجود ہے کہ گریجویشن کے بعد ماسٹر اور ماسٹر کے بعد ڈاکٹریٹ تک داخلے کے پروسیس میں خرابی ، نصاب میں خرابی موجود ہے ۔ یونیورسٹیوں کو نو سیکھیئے سنگھی وائس چانسلروں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو الگ مسئلہ پیدہ کیے رکھتے ہیں ، جو نصاب میں سنگھ کے مطابق بدلاؤ کرتے ہیں اور پوری اپنی من مانی چلا کر طلباء کو حراساں کرتے رہتے ہیں ۔

کیا یوروپ اور امریکا میں طلباء خود کشی نہیں کرتے ہیں ؟ بالکل کرتے ہیں ۔ لیکن بھارت کے مقابلے وہاں طلباء بہت کم خود کشی کرتے ہیں ۔ تو کیا اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا نصاب آسان ہے اور بھارت کا نصاب مُشکِل ترین ہے ؟ ایسا بھی نہیں ہے ۔
ہم اکثر بھارتیہ امتحانات کے بارے میں سنتے ہیں کہ NEET امتحان، JEE امتحان دُنیا کا مُشکِل ترین امتحان ہے ، CA کا، GATE کا، CAT کا امتحان دُنیا کا مشکل ترین امتحان ہے ، UPSC دُنیا کا مُشکل ترین امتحان ہے ۔ سنتے ہیں نا ؟
جب بھارتیہ امتحانات اتنے ہی مُشکِل ترین ہیں تو اُنھیں پاس کرنے والے بھی دُنیا میں سب سے ٹیلنٹڈ ہونے چاہیئے کہ نہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اِتنے مشکل ترین امتحانات پاس کرنے والے طلباء دُنیا کے بہترین ڈاکٹرز ، انجینئرز ، سائنٹسٹس ، ماہرِ معاشیات اور بیوروکریٹس میں شامل نہیں ۔ دُنیا کے بہترین ڈاکٹرز ، انجینئرز ، سانٹسٹس آج بھی یوروپ ، امریکا اور چائنا سے آرہے ہیں جنہوں نے اپنے نئے نئے ایجادات سے دُنیا میں اِنقلاب بپا کر رکھا ہے ۔
ابھی AI کو ہی لے لیجئے بھارت کہاں ہے ؟ کہیں بھی نہیں ۔ اُن ٹاپ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اداروں کا کیا جنھیں ہم نے دُنیا ککے بہترین انسٹیٹیوٹس قرار دے رکھا ہے جن میں ایڈمشن کے لئے طلباء مرے جاتے ہیں ۔ آخر اُن سے فارغ لوگ انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی نئی ایجادات کرنے میں شامل کیوں نہیں ہیں ؟ آخر دُنیا کے مشکل ترین امتحان CUET-UG سے داخلہ پاکر معاشیات پڑھنے والے طلباء اور جو سالوں لگا کر دُنیا کے مشکل ترین امتحان UPSC پاس کرتے ہیں وہ دُنیا کے بہترین ماہرِ معاشیات اور دُنیا کے بہترین بیوروکریٹس کیوں نہیں ہیں ؟ کیوں ہمارا معاشی نظام ڈگمگا رہا ہے ؟ کیوں ہمارے بیوروکریٹس مُلک میں بہتر نظام قائم کرنے میں ناکام ہیں؟
جواب صِرف یہ ہے کہ نہ ہمارے امتحانات دُنیا کے مشکل ترین امتحانات ہیں ، نہ ہمارے تعلیمی ادارے دُنیا کے بہترین ادارے ہیں اور نہ ہمارے طلباء دُنیا کے سب سے ٹیلنٹڈ طلباء ہیں ۔ وہ ہو سکتے ہیں اگر سسٹم کو صحیح کیا جائے ۔ نصاب میں بہتر درستگی کی جائے اور نظام تعلیم ، تعلیمی اداروں کو ماہرِ تعلیم کے حوالے کیا جائے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا بڑا مسئلہ مقابلہ جاتی امتحانات کو Centralize کرنا ہے ۔ کئی ریاستیں خاص کر تامل ناڈو اِس بات کی اپیل کر چُکی ہیں کہ NEET کی بجاۓ بارہویں کے بورڈ امتحان کے نتائج کی بنیاد پر ہی آگے داخلہ دیا جائے ۔ لیکن اُنکی باتوں کو لگاتار نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
مقابلہ جاتی امتحانات کو Centralize کرنے کے بھلے ہی کُچھ فائدے ہوں لیکن اِس کے نقصان بہت زیادہ ہیں ۔ کیوں کہ مُختلف ریاست ، تہذیب ، زبان ، ماحول اور علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کا مُختلف ریاستی اور علاقائی بورڈ سے پڑھنے پر CBSE کی بُنیاد پر امتحان لینا بالکل بھی منصفانہ نہیں ہے ۔

اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امتحانی نظام کی مرکزیت غریبوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تمل ناڈو میں نیٹ (NEET) کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے قائم کردہ "اے کے راجن” کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ نیٹ سے پہلے، میڈیکل کی نشستیں حاصل کرنے والوں میں سے 19.8 فیصد طلباء تمل میڈیم اسکولوں سے تھے۔
2016 میں اس امتحان کے متعارف ہونے کے بعد یہ تناسب کم ہو کر محض 1.6 فیصد رہ گیا۔ اپنے خاندان کی پہلی نسل کے فارغ التحصیل طلباء (فرسٹ جنریشن گریجویٹس) کا تناسب 24.6 فیصد سے گر کر 14.5 فیصد ہو گیا، جبکہ انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز میں دلتوں کی نمائندگی 5.24 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 1.1 فیصد کی نچلی ترین سطح پر آ گئی۔
اسے تمل ناڈو کی ہی ایک مثال سے سمجھتے ہیں کہ آخر مرکزی بورڈ کی بُنیاد پر لیئے جا رہے NEET امتحان میں تمل طلباء کا گراف کیوں گر رہا ہے ۔ یکم ستمبر 2017 کو تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ایک دیہاڑی مزدور کی 17 سالہ بیٹی، "شنموگم انیتا” نے خودکشی کر لی۔ انتہائی غربت میں رہنے اور اپنے گھر میں ایک بیت الخلا تک نہ ہونے کے باوجود،دن رات سخت محنت کر کے اس نے ریاست کے بارہویں جماعت کے بورڈ امتحان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1,200 میں سے 1,176 نمبر حاصل کیے تھے۔ تاہم، نیٹ (NEET) کے نامانوس نصاب کی وجہ سے اُسے 700 میں سے صرف 86 مارکس ملے۔
جب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس امتحان کو چیلنج کیا، تو انیتا بھی فریق بن گئی۔ جب عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ ریاست کے میڈیکل کالجوں کے لیے صرف نیٹ ہی لاگو ہوگا، تو اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اور بات صرف تامل ناڈو کی نہیں ہے کئی ریاستوں کے طلباء اِس سے گزر رہے ہیں ۔ اور مجبوراً اُنھیں مہنگی کوچنگ کلاسس ، آنلائن کوچنگ کلاسس لینی پڑتی ہے جو کہ خاص کر مرکزی بورڈ کے تحت لیئے جانے والے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے ڈیزائن کی گئی ہوتی ہیں ۔ پھر بھی کُچھ دنوں کی کلاسس سے کُچھ بدلتا تو نہیں اِس لیئے ایک سال یا دو سال یہ مہنگی کوچنگ کلاسس دہرانی پڑتی ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں خاص کر ایک ایسے دیش میں جہاں 90 فیصد آبادی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہو ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکہ میں ایک زمانے تک ذہانت کے مروجہ امتحانات میں سفید فام طلبہ عموماً سیاہ فام طلبہ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس فرق کو بعض حلقے اس طرح پیش کرتے تھے گویا سیاہ فام طلبہ فطری طور پر سفید فام طلبہ سے کم ذہین یا کم صلاحیت کے حامل ہوں۔
لیکن افریقی نژاد امریکی ماہرِ نفسیات "ڈاکٹر رابرٹ ایل ولیمز” نے اس مفروضے کے سامنے ایک نہایت دلچسپ سوال کھڑا کردیا: اگر امتحان ہی ایک مخصوص طبقے کی زبان، ثقافت اور سماجی تجربات کے مطابق بنایا گیا ہو تو کیا اس امتحان کے نتائج کو خالصتاً ذہانت کا پیمانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
اسی سوال کو جانچنے کے لیے ولیمز نے 1970 کی دہائی کے آغاز میں Black Intelligence Test of Cultural Homogeneity (BITCH-100) تیار کیا۔ اس امتحان کے سو سوالات افریقی نژاد امریکیوں کی زبان، الفاظ، ثقافت اور سماجی تجربات کے پس منظر میں ترتیب دیے گئے تھے۔
جب اسے سیاہ فام اور سفید فام امریکی طلبہ پر آزمایا گیا تو نتیجہ مروجہ امتحانات کے برعکس نکلا: سیاہ فام طلبہ نے سفید فام طلبہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی۔
اس تجربے کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ سیاہ فام طلبہ سفید فام طلبہ سے زیادہ ذہین ہیں۔ اصل نکتہ کہیں زیادہ اہم تھا:
"امتحان میں کامیابی ہمیشہ صرف ذہانت کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ امتحان کا پیمانہ، زبان، تعلیمی پس منظر اور سوالات سے واقفیت بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے”۔
یہ واقعہ بھارت کے Centralize کیے گئے مقابلہ جاتی داخلہ امتحانات پر بحث کرتے وقت ایک اہم سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے۔
بھارت کوئی یکساں تعلیمی، لسانی اور سماجی اکائی نہیں ہے۔ یہاں مختلف ریاستوں کے اپنے تعلیمی بورڈ، زبانیں، تدریسی طریقے اور تعلیمی ماحول ہیں۔ ایسے میں اگر مختلف تعلیمی پس منظر سے آنے والے کروڑوں طلباء کو ایک ہی مرکزی امتحان کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو محض امتحان کے نتائج کی بنیاد پر کسی طالب علم کی ذہانت یا صلاحیت کا فیصلہ کس حد تک منصفانہ ہوگا؟
ممکن ہے مسئلہ طالب علم کی ذہانت میں نہ ہو بلکہ اس پیمانے میں ہو جس سے اس کی ذہانت ناپی جارہی ہے۔
رابرٹ ولیمز کے تجربے کا سبق بھی یہی تھا: پیمانہ بدل جائے تو بعض اوقات ذہانت کی درجہ بندی بھی بدل جاتی ہے۔ لہٰذا NEET یا JEE جیسے امتحانات میں پیچھے رہ جانے والے کسی ریاستی بورڈ، علاقائی زبان یا مختلف تعلیمی پس منظر کے طالب علم کو محض نتیجے کی بنیاد پر کم ذہین قرار دینا ایک سنگین علمی غلطی ہوسکتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں طلباء سے کہنا چاہتا ہوں کہ پیسہ کمانے کے مقصد سے تعلیم کی اور نہ بڑھیں ورنہ ایسے ہی آپ خود کو حراساں پاؤگے ۔
ایک بات جو غور کرنے میں آئی وہ یہ ہے کہ جو مغربی ممالک کے طلباء ہوتے ہیں وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہی وہ کُچھ کام بھی کرنا شروع کردیتے ہیں جو اُنھیں پسند ہوتا ہے اور جس سے کُچھ آمدنی بھی آنے لگتی ہے ۔ مطلب کہ "سائڈ ہسل” ۔
وہ اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی کُچھ نہ کُچھ کرنے لگتے ہیں، جیسے ٹیوشن، فری لانس رائٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ کام، اور یو جی سی کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا مینجمنٹ، ڈیجیٹل پروڈکٹس بیچنا، پرنٹ آن ڈیمانڈ، اور افیلیئیٹ مارکیٹنگ، یوزر ٹیسٹنگ، اور اسکل بیسڈ سروسز جیسے گرافک ڈیزائن اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ہیلتھ کیئر اور فٹنیس ٹریننگ، رائٹنگ، سوفٹویئر ڈیولوپنگ، یوٹیوب اور انسٹاگرام کے مثبت استعمال وغیرہ ۔ یہ سب وہاں اسٹوڈنٹس کے لیے عام اور مفید سائیڈ ہسلز ہیں۔
جب کے ہمارے بھارتی طلباء جب تک تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں مطلب کہ اپنی زندگی کے بيس سے پچیس سال تک خود کو صرف تعلیم حاصل کرنے تک ہی محدود رکھتے ہیں اور اُسی کے بُنیاد پر مستقبل بنانے پر خود کو منحصر رکھتے ہیں ۔
حالانکہ اب دھیرے دھیرے بدلاؤ آرہا ہے ۔ لنکڈ اِن، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اب بھارت میں بھی طلباء پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہی سائڈ ہسل کرنے لگے ہیں ۔ اور یہ اچّھی بات ہے ۔
آج زمانہ بدل چُکا ہے ۔ بھارت میں انٹرنیٹ بھی سستا ہے اور بھارت میں ہی دُنیا کی سب سے بڑی آڈینس رہتی ہے اِس لئے سبھی طلباء کو تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ ہی کُچھ نہ کُچھ کرنا چاہیئے ۔
آن لائن ٹیوشن، فری لانس رائٹنگ، کینوا ڈیزائن، سوشل میڈیا مینجمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، نوٹس اور اسٹڈی مٹیریل فروخت کرنا، کیمپس ایمبیسیڈر کام، افیلیئیٹ مارکیٹنگ، ریسیلنگ، ڈیٹا انٹری، اور چھوٹے آن لائن پروجیکٹس، کانٹینٹ کریشن وغیرہ ۔ یہ سب اسٹوڈنٹس کے لیے پڑھائی کے ساتھ کرنے والے اچھے سائیڈ ہسلز ہیں۔
آج بھارت میں کانٹینٹ کریشن اپنے بوم پر ہے اور کہا جا رہا ہے کہ 2030 تک یہ اِتنا اُوپر جائیگا کہ ہر آدمی یا تو اپنی پسند سے، یا اپنی ضرورت سے، یا مجبوراََ سوشل میڈیا پر کانٹینٹ بنائے گا ہی ۔
آپ اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی اپنا ٹیلنٹ، اپنی ہابی، اپنی اسکل انسٹاگرام، یوٹیوب اور لنکڈ اِن پر شو کر سکتے ہیں ۔ آپ کو کسٹمرز ، ویورز وہاں ملیں گے اور آپ شروع سے ہی کمانا شروع کر دیں گے ۔
بہت سارے پلیٹ فارمس ہیں، بہت سارے ایپس ہیں، ویبسائٹس ہیں جہاں سے آپ سیکھ سکتے ہیں ۔ خود سکھا سکتے ہیں ۔ اپنی اسکل، اپنے پروڈکٹس خاص کر ڈیجیٹل پروڈکٹس جیسے ٹیمپلیٹس، نوٹس، تھمبنیلس، رائٹنگز، ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافک ڈیزائن، میک اوورز ، مہندی ڈیزائن ، بلاگنگ ، vlogging ، سب کُچھ جو کہ آپ کو آتا ہو ۔ بس تھوڑا ریسرچ کریے ۔ تھوڑا طریقہ کار سمجھیے ، تھوڑا سیکھیئے اور شروع کیجیئے ۔
کیوں کہ بھارتی ایجوکیشن سسٹم میں جب تک سدھار نہیں ہوتا آپ کا صرف اپنی تعلیم کی بُنیاد پر مستقبل کو بہتر بنانے کا جو خواب ہے وہ بھی کہیں نہ کہیں ادھورا ہی رہ جائے گا ۔
یونہی بھارت میں کروڑں لوگ بیروزگار نہیں ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ قابل نہیں ہیں بلکہ اُن میں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن انھوں نے بھی وہی غلطی کی جو آج آپ طلباء کر رہے ہیں۔ تعلیم کی بُنیاد پر پیسہ کمانے کا مقصد اور مستقبل سنوارنے کا خواب ۔ اور یہ بات طالب علمی کے زمانے میں سمجھ نہیں آتی ۔ لیکن جو سمجھتے ہیں وہ یقیناً کُچھ نہ کُچھ کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔
